اور پھر وہاں سے رگوں کے ذریعہ ہی پورے بدن میں پھیلتی ہے ان رگوں کو شرائین یا آوردہ (وریدیں) کہتے ہیں جو بالترتیب دل یا جگر سے نکلی ہوئی ہیں۔
Fatwa No #301
سوال:
انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟
المستفتی:
ڈاکٹر اے، ایس، خان چھترپور
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا چاہے گوشت میں لگوائے یا رگ میں، کیوں کہ اس سلسلے میں حکم شرعی یہ ہے کہ قصداً کھانے پینے اور جماع کے علاوہ ایسی دوا یا غذا سے روزہ ٹوٹے گا جو پیٹ یا دماغ میں داخل ہو، دوا تر ہو یا خشک۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
وَفِي دَوَاءِ الْجَائِفَةِ وَالْآمَّةِ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ عَلَى أَنَّ الْعِبْرَةَ لِلْوُصُولِ إِلَى الْجَوْفِ وَالدِّمَاغِ لَا لِكَوْنِهِ رَطْبًا أَوْ يَابِسًا حَتَّى إِذَا عَلِمَ أَنَّ الْيَابِسَ وَصَلَ يَفْسُدُ صَوْمُهُ وَلَوْ عَلِمَ أَنَّ الرَّطْبَ لَمْ يَصِلْ لَمْ يَفْسُدْ هَكَذَا فِي الْعِنَايَةِ. [الفتاوى الهندية (فتاوی عالمگیری)، ج: 1، ص: 104، مطبوعہ رحیمیہ]
دماغ میں داخل ہونے سے اس لیے روزہ ٹوٹے گا کہ دماغ سے پیٹ تک ایک منفذ ہے جس کے ذریعہ دوا وغیرہ پیٹ میں پہنچ جاتی ہے، ورنہ در حقیقت پیٹ میں کسی چیز کا داخل ہو کر رک جانا ہی فساد صوم کا سبب ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق میں ہے:
قَالَ فِي الْبَدَائِعِ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ اسْتِقْرَارَ الدَّاخِلِ فِي الْجَوْفِ شَرْطُ فَسَادِ الصَّوْمِ وَفِي التَّحْقِيقِ أَنَّ بَيْنَ الْجَوْفَيْنِ مَنْفَذًا أَصْلِيًّا فَمَا وَصَلَ إِلَى جَوْفِ الرَّأْسِ يَصِلُ إِلَى جَوْفِ الْبَطْنِ كَذَا فِي الْعِنَايَةِ. [البحر الرائق، ج: 2، ص: 300]
گوشت میں انجکشن لگنے سے دوا پیٹ یا دماغ میں کسی منفذ کے ذریعہ داخل نہیں ہوتی بلکہ مسامات کے ذریعہ پورے بدن میں پھیل جاتی ہے اور مسامات کے ذریعہ کسی چیز کے داخل ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
وَمَا يَدْخُلُ مِنْ مَسَامِّ الْبَدَنِ مِنَ الدُّهْنِ لَا يُفْطِرُ هَكَذَا فِي شَرْحِ الْمَجْمَعِ. [الفتاوى الهندية، ج: 1، ص: 104]
اسی طرح رگ میں انجکشن لگنے سے بھی دوا پیٹ یا دماغ میں منفذ سے داخل نہیں ہوتی بلکہ رگوں سے دل یا جگر میں پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے رگوں کے ذریعہ ہی پورے بدن میں پھیلتی ہے ان رگوں کو شرائین یا آوردہ (وریدیں) کہتے ہیں جو بالترتیب دل یا جگر سے نکلی ہوئی ہیں۔
جیسا کہ ماہر علم طب حضرت علامہ محمود چغمینی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
أَمَّا الْعُرُوقُ الضَّوَارِبُ الَّتِي تُسَمَّى الشَّرَايِينَ فَهِيَ نَابِتَةٌ مِنَ الْقَلْبِ فِي تَجْوِيفِهَا رُوحٌ كَثِيرٌ وَدَمٌ قَلِيلٌ وَمَنْفَعَتُهَا أَنْ تُفِيدَ الْأَعْضَاءَ قُوَّةَ الْحَيَاةِ الَّتِي تَحْمِلُهَا مِنَ الْقَلْبِ، وَأَمَّا الْعُرُوقُ الْغَيْرُ الضَّوَارِبِ الَّتِي تُسَمَّى الْأَوْرِدَةَ فَهِيَ نَابِتَةٌ مِنَ الْكَبِدِ فِيهَا دَمٌ كَثِيرٌ وَرُوحٌ قَلِيلٌ وَمَنْفَعَتُهَا أَنْ تَسْقِيَ الْأَعْضَاءَ الدَّمَ الَّذِي تَحْمِلُهُ مِنَ الْكَبِدِ اﻫ مُلَخَّصًا. [قانونچه، ص: 30، مطبوعہ نامی پریس لکھنؤ]
والله تعالى أعلمکتبــــــــــــــــــــــــــــــــه:
محمد عماد الدین قادری
المصدق:
جلال الدین احمد الامجدی
[فتاوی فقیہ ملت، ج:1، ص:344-345]
