ورنہ جن لوگوں پر ظاہر ہوا صرف انہیں لوگوں کے سامنے توبہ و استغفار کرایا جائے۔ اور قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے غربا و مساکین کو کھانا کھلانے اور مسجد میں لوٹا و چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے یہ چیزیں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہیں۔
Fatwa No. #300
سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلے میں کہ روزے کی حالت میں زید نے ہندہ سے زنا کیا تو ان دونوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
بینوا توجروا.
المستفتی:
جمیل احمد رضوی، کان پور
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
روزہ کی حالت میں زنا معاذ اللہ استغفر اللہ اگر حکومت اسلامیہ ہوتی تو ایسے لوگوں کو بہت سخت سزا دی جاتی، موجودہ صورت میں یہ حکم ہے کہ اگر گناہ عام لوگوں پر ظاہر ہوگیا تو ان دونوں کو اعلانیہ توبہ و استغفار کرایا جائے ورنہ جن لوگوں پر ظاہر ہوا صرف انہیں لوگوں کے سامنے توبہ و استغفار کرایا جائے۔ اور قرآن خوانی و میلاد شریف کرنے غربا و مساکین کو کھانا کھلانے اور مسجد میں لوٹا و چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے یہ چیزیں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہیں۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى:
وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا [الفرقان: 25]
پھر اگر ماہ رمضان کے ادا روزہ میں ایسا ہوا تو روزہ توڑنے کے کفارے میں دونوں ساٹھ ساٹھ روزے مسلسل رکھیں۔ اگر عذر یا بغیر عذر کے ایک روزہ بھی درمیان میں چھوٹ گیا تو ساٹھ روزہ پھر سے رکھنا پڑے گا۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ روزہ کا کفارہ ان دنوں میں رکھے کہ شروع یا درمیان میں عید الفطر عید الاضحی اور ذوالحجہ کی ١١، ١٢، ١٣ تاریخیں نہ ہو۔ اور کفارہ کا ساٹھ ساٹھ روزہ رکھنے کے ساتھ ان دونوں پر ماہ رمضان کے ایک ایک روزے کی قضا بھی فرض ہے۔
اور جس روزہ میں یہ گناہ سرزد ہوا اگر وہ رمضان شریف کی قضا کا تھا یا نفلی تھا تو ان صورتوں میں صرف ایک ایک روزہ قضا کی نیت سے رکھنا ضروری ہے۔
والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
فقيه الملة المفتي الدین أحمد الأمجدي
[فتاوی فقیہ ملت، ج:1، ص:333]
