وجوب زکاۃ کے بعد اگر مال نصاب ہلاک ہو جائے تو زکاة ساقط ہو جاتی ہے بخلاف صدقۂ فطر کے، بعد ہلاکت میں بھی وہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا، نیز اگر کسی کے پاس ایسی زمین و جائیداد ہو
Fatwa No. #302
سوال:
زکاۃ اور صدقۂ فطر کے نصاب میں کیا فرق ہے؟
المستفتی:
ممتاز احمد قادری، دار العلوم جماعتیہ طاہر العلوم، چھترپور
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
زکاۃ اور صدقۂ فطر دونوں کا نصاب تو ایک ہی ہے یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت کا مالک ہونا اور ملکیت نصاب کا حوائج اصلیہ سے زائد ہونا، البتہ وجوب زکاۃ کے لیے صاحب نصاب کا عاقل و بالغ ہونا ضروری ہے۔ لیکن صدقہ فطر میں ایسا نہیں لہذا مجنوں اور صبی (نا بالغ) کے اولیاء پر ضروری ہے کہ ان کے مال سے ان کا صدقۂ فطر نکالیں، اگر ایسا نہیں کرتے تو بعد افاقہ جنوں یا بعد بلوغ ان دونوں کو صدقۂ فطر نکالنا ہوگا۔ علاوہ ازیں ادائیگی زکاۃ کے لیے مال نصاب پر پورا سال گزرنا ضروری ہے۔ اور مال کا نامی (بڑھنے والا) ہونا بھی ضروری ہے خواہ یہ نمو (مال کا بڑھنا) ثمن خلقی (سونا، چاندی) کے ذریعہ ہو یا جو ثمن خلقی کے حکم میں ہے اس کے ذریعہ ہو یا چرائی کے جانور کے سبب یا بہ نیت تجارت، جب کہ صدقہ فطر کے لیے نہ سال گزرنا ضروری ہے اور نہ ہی مال کا نامی ہونا۔ نیز وجوب زکاۃ کے بعد اگر مال نصاب ہلاک ہو جائے تو زکاة ساقط ہو جاتی ہے بخلاف صدقۂ فطر کے، بعد ہلاکت میں بھی وہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا، نیز اگر کسی کے پاس ایسی زمین و جائیداد ہو جو اس کی رہائش وغیرہ سے فاضل ہو، ساتھ ہی اس کی قیمت نصاب وغیرہ کو پہنچتی ہو اور وہ زمین و جائیداد بہ نیت تجارت نہ ہو تو اس پر زکاۃ نہیں حالاں کہ صدقۂ فطر واجب ہے۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
شَرْطُ افْتِرَاضِهَا عَقْلٌ وَبُلُوغٌ وَإِسْلَامٌ [تنوير الأبصار مع الدر المختار، ج: 2، ص: 4، بيان الزكاة]
شامی میں ہے:
تَجِبُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَلَوْ صَغِيرًا مَجْنُونًا حَتَّى لَوْ لَمْ يُخْرِجْ وَلِيُّهُمَا وَجَبَ الْأَدَاءُ بَعْدَ الْبُلُوغِ وَبَعْدَ الْإِفَاقَةِ فِي الْمَجْنُونِ [رد المحتار (شامي)، ج: 2، ص: 79، باب صدقة الفطر]
بحر الرائق میں ہے:
لَمْ يُقَيَّدْ النِّصَابُ بِالنُّمُوِّ كَمَا فِي الزَّكَاةِ لِأَنَّهَا وَجَبَتْ بِقُدْرَةٍ مُمْكِنَةٍ وَلِهَذَا لَوْ هَلَكَ الْمَالُ بَعْدَ الْوُجُوبِ لَا يَسْقُطُ بِخِلَافِ الزَّكَاةِ [البحر الرائق، ج: 2، ص: 271]
اور شرح وقایہ میں ہے:
تَجِبُ عَلَى حُرٍّ مُسْلِمٍ لَهُ نِصَابُ الزَّكَاةِ وَإِنْ لَمْ يَنْمُ، وَقَدْ ذَكَرْنَا فِي أَوَّلِ كِتَابِ الزَّكَاةِ أَنَّ النَّمَاءَ بِالْحَوْلِ مَعَ الثَّمَنِيَّةِ أَوْ السَّوْمِ أَوْ نِيَّةِ التِّجَارَةِ فَمَنْ كَانَ لَهُ نِصَابُ الزَّكَاةِ أَيْ نِصَابٌ فَاضِلٌ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ فَإِنْ كَانَ مِنْ أَحَدِ الثَّمَنَيْنِ أَوْ السَّوَائِمِ أَوْ مَالِ التِّجَارَةِ تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ وَإِنْ لَمْ يَحُلْ عَلَيْهِ الْحَوْلُ وَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْأَمْوَالِ كَدَارٍ لَا یكُونُ لِلسُّكْنَى وَلَا لِلتِّجَارَةِ وَقِيمَتُهَا تَبْلُغُ النِّصَابَ تَجِبُ بِهَا صَدَقَةُ الْفِطْرِ مَعَ أَنَّهُ لَا تَجِبُ بِهَا الزَّكَاةُ
[شرح الوقاية، ج: 1، ص: 240، صدقة الفطر]
والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه
ابرار احمد اعظمی
جلال الدین احمد الامجدی
[فتاوی فقیہ ملت ، ج: 1، ص:329]
