اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے بعض مشتاق ایسے بھی ہوں گے جو اس کی تمنا کریں گے اور ان کا یہ نظریہ ہوگا کہ اگر یہ نعمت اپنے اہل و عیال، مال و دولت، بلکہ روح و جان
Fatwa No. #303-12
سوال:
مفتی صاحب سے عرض ہے کہ کاش میں صحابی ہوتا، یہ تمنا کرنا کیسا؟
المستفتی:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
کاش میں صحابی ہوتا، یہ تمنا کرنا شرعاً جائز و مستحسن ہے۔
اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ صحابی ہونے کی تمنا کرنا درحقیقت مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت، آپ کی خدمت، شب و روز آپ کے رخِ زیبا کی زیارت اور سعادتِ دارین کی تمنا کرنا ہے جو کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نعمتِ عظمیٰ کی تمنا رکھنے والوں کی مدح فرمائی اور انہیں اپنا عاشقِ صادق قرار دیا ہے، نیز بعض انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی اس سعادت کے حصول کی تمنا فرمائی۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو اپنا عاشقِ صادق قرار دیا، جیسا کہ امام مسلم علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں:
”أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: «من أشد أمتي لي حبا، ناس يكونون بعدي، يود أحدهم لو رآني بأهله وماله»“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے ان میں سے کوئی تمنا کرے گا کہ کاش اپنے اہل و مال کو قربان کر کے مجھے دیکھتا۔ [الصحيح لمسلم، ج: 8، ص: 145، ترکیا]
امام حاکم علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں:
قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: ”إن أناسا من أمتي يأتون بعدي يود أحدهم لو اشترى رؤيتي بأهله وماله“ هذا حديث صحيح الإسناد۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میری امت میں سے کچھ لوگ میرے بعد آئیں گے ان میں ہر ایک تمنا کرے گا کہ کاش اپنے اہل و عیال کے بدلے میری زیارت حاصل کر لیتا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين، ج: 4، ص: 95، حدیث: 6991، دار الکتب العلمیہ، بیروت]
امام مناوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”يتمنى أحدهم أن يكون مفديا بأهله لو اتفقت رؤيتهم إياه ووصولهم إليه“
ترجمہ: ان میں سے ہر ایک تمنا کرے گا کہ اپنے اہل و عیال قربان کر دے اگر ان کو میری زیارت اور مجھ تک پہنچنا میسر ہو۔ [فیض القدیر، ج: 6، ص: 8، مصر]
شیخِ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
”يتمنى أحدهم أن أكون مفديا بأهله وماله لو اتفق رؤيته إياي ووصوله إلي، وهذا وإن لم يكن ممكنا، لكن التمني لا يشترط فيه الإمكان، ... إن من المشتاقين من يتمنى ذلك، ويرى أن لو كان حصل له ذلك بفداء أهله وماله بل روحه وجميع ماله لكان فيه سعادته في الدنيا والآخرة“
ترجمہ: ان میں سے ہر ایک تمنا کرے گا کہ اگر اسے میری زیارت اور مجھ تک پہنچنا نصیب ہو تو اپنے اہل و عیال اور مال کو قربان کر دوں اور یہ تمنا اگرچہ ممکن نہیں ہے لیکن تمنا کے لیے امکان شرط نہیں ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے بعض مشتاق ایسے بھی ہوں گے جو اس کی تمنا کریں گے اور ان کا یہ نظریہ ہوگا کہ اگر یہ نعمت اپنے اہل و عیال، مال و دولت، بلکہ روح و جان اور تمام مال قربان کر کے بھی حاصل ہو تو اس میں دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔ [لمعات التنقیح، ج: 9، ص: 825، دار النوادر، دمشق]
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صحابی ہونے کی تمنا کی، جیسا کہ تفسیر مظہری، تفسیر بغوی، تفسیر خازن، حلیۃ الاولیاء میں ہے، واللفظ للبغوی: ”جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا السلام کے فضائل دیکھے تو تمنا کی اے اللہ یہ میری امت بنا دے، ارشاد ہوا کہ یہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے، تو آپ نے تمنا کی ’یا لیتنی من اصحاب محمد‘“ ترجمہ: اے کاش میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ہوتا۔ [تفسیر البغوی، ج: 2، ص: 232، دار احیاء التراث العربی]
والله تعالى أعلمکتبـــــــــــــــــــــــــــه:
حسین رضا الأشرفي المدني
27 رجب المرجب 1447ھ بمطابق 17 جنوری 2026
المصدق:
المفتي محمد وسيم أكرم الرضوي المصباحي
