مثلاً مالِ حرام دکھا کر کہے اس مال کے بدلے دے دو تو یہ حرام پر عقد ہوا۔ پھر جب اس بیچنے والے نے کھانے کی چیز دے دی تو خریدنے والے نے وہی مالِ حرام ثمن (قیمت) میں دے دیا، تو یہ حرام کا نقد ہوا
سوال:
اگر کسی شخص کی ٹوٹل کمائی سٹے کی ہو اور وہ مسجد میں خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی فاتحہ کروائے تو اس کا تبرک کھانا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی:
ظہیر الدین صدیقی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الجواب:
سٹے لگانا (یعنی جوا بازی) ناجائز، حرام اور گناہ کا کام ہے اور اس کے ذریعے کمائی ہوئی دولت بھی حرام ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں جوئے کی حرمت سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا
ترجمہ کنز الایمان: (اے محبوب!) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں۔ تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی، اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔ [البقرۃ: 219]
لیکن حرام مال سے کوئی کھانے کی چیز خریدی جائے تو اس میں حرمت اس وقت سرایت کرے گی جب عقد و نقد دونوں مالِ حرام پر جمع ہو جائیں۔ مثلاً مالِ حرام دکھا کر کہے اس مال کے بدلے دے دو تو یہ حرام پر عقد ہوا۔ پھر جب اس بیچنے والے نے کھانے کی چیز دے دی تو خریدنے والے نے وہی مالِ حرام ثمن (قیمت) میں دے دیا، تو یہ حرام کا نقد ہوا۔ یا مالِ حرام پہلے بیچنے والے کو دے پھر اسی کے بدلے خرید لے، تو یہ بھی عقد و نقد کے جمع ہونے کی صورت ہے۔ ان دونوں صورتوں میں وہ کھانا حرام ہے۔
اور جب تک متعین کھانے کے بارے میں اس طرح کا علم نہ ہو، مفتی بہ قول کے مطابق اسے حرام نہیں کہہ سکتے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ تبرک حرام تو نہیں مگر چونکہ سٹے باز کے گھر کا ہے لہٰذا ناپسندیدہ ہے۔ اس سے بچنا چاہیے اور بالخصوص علماء کو بچنا چاہیے تاکہ لوگوں پر اس کے حرام پیشے (سٹے بازی) کی برائی ظاہر ہو۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَخْذِ الْجَائِزَةِ مِنَ السُّلْطَانِ، قَالَ بَعْضُهُمْ يَجُوزُ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ يُعْطِيهِ مِنْ حَرَامٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَبِهِ نَأْخُذُ مَا لَمْ نَعْرِفْ شَيْئًا حَرَامًا بِعَيْنِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى وَأَصْحَابِهِ، كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ.
ترجمہ: فقیہ ابو اللیث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: علماء کا سلطان کی طرف سے ملنے والے انعام کو لینے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دے رہا ہے، اسے لینا جائز ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ جب تک کسی خاص چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو، اسے لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔ یہی امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے۔ ایسا ہی ’ظہیریہ‘ میں ہے۔ [الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج: 5، ص: 342، دار الفكر، بيروت، لبنان]
محیط برہانی میں ہے:
وَفِي «فَتَاوَى أَهْلِ سَمَرْقَنْدَ»: رَجُلٌ دَخَلَ عَلَى السُّلْطَانِ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ مَأْكُولٍ، فَإِنِ اشْتَرَاهُ بِالثَّمَنِ أَوْ لَمْ يَشْتَرِ، وَلَكِنَّ هَذَا الرَّجُلَ لَا يَعْلَمُ أَنَّهُ مَغْصُوبٌ بِعَيْنِهِ حَلَّ لَهُ أَكْلُهُ؛ أَمَّا إِذَا اشْتَرَاهُ بِالثَّمَنِ فَلِأَنَّ الْعَقْدَ يَقَعُ عَلَى مِثْلِ الثَّمَنِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ؛ لَا عَلَى عَيْنِ الْمُشَارِ إِلَيْهِ، فَلَا يَتَمَكَّنُ الْخُبْثُ فِي الْمُشْتَرَى... الصَّحِيحُ أَنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى غَالِبِ مَالِ السُّلْطَانِ، وَيُبْنَى الْحُكْمُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: اور فتاویٰ اہلِ سمرقند میں ہے: ایک شخص سلطان کے پاس گیا، تو سلطان نے اسے کوئی کھانے کی چیز پیش کی۔ اگر وہ چیز سلطان نے قیمت دے کر خریدی ہو، یا قیمت نہ دی ہو، لیکن اس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز خاص طور پر غصب (زبردستی لی ہوئی) ہے، تو اس کے لیے اسے کھانا جائز ہے۔ اگر سلطان نے اسے قیمت دے کر خریدا ہو تو اس لیے جائز ہے کہ خریداری کا معاملہ مخصوص چیز پر نہیں بلکہ اس کی مثل پر ہوتا ہے، اس لیے اس میں حرمت و قباحت سرایت نہیں کرتی... اور صحیح یہی ہے کہ سلطان کے مالِ غالب کو دیکھا جائے، اور اسی کی بنیاد پر حکم لگایا جائے۔ [المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل السابع عشر في الهدايا والضيافات، ج: 5، ص: 368، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان]
رد المحتار میں ہے:
تَوْضِيحُ الْمَسْأَلَةِ مَا فِي التَّتَارْخَانِيَّةِ حَيْثُ قَالَ: رَجُلٌ اكْتَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ ثُمَّ اشْتَرَى فَهَذَا عَلَى خَمْسَةِ أَوْجُهٍ... قَالَ أَبُو نَصْرٍ: يَطِيبُ لَهُ وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ إِلَّا فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ، وَإِلَيْهِ ذَهَبَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ... وَقَالَ الْكَرْخِيُّ: فِي الْوَجْهِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي لَا يَطِيبُ، وَفِي الثَّلَاثِ الْأَخِيرَةِ يَطِيبُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا يَطِيبُ فِي الْكُلِّ، لَكِنِ الْفَتْوَى الْآنَ عَلَى قَوْلِ الْكَرْخِيِّ دَفْعًا لِلْحَرَجِ عَنِ النَّاسِ.
ترجمہ: مسئلے کی وضاحت یہ ہے کہ تتارخانیہ میں لکھا ہے: ایک شخص نے حرام طریقے سے مال کمایا، پھر اس مال سے خریداری کی تو اس کی پانچ صورتیں بنتی ہیں... ابو نصر نے کہا: اس کے لیے یہ چیز حلال ہو جاتی ہے، اور صرف پہلی صورت میں صدقہ کرنا ضروری ہے۔ فقیہ ابو اللیث سمرقندی علیہ الرحمہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام کرخی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: پہلی اور دوسری صورت میں مال حلال نہیں ہوتا، باقی تین صورتوں میں حلال ہو جاتا ہے۔ ابو بکر کہتے ہیں: کسی بھی صورت میں پاک نہیں ہوتا۔ مگر آج کل فتویٰ امام کرخی کے قول پر دیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں پر تنگی نہ ہو۔ [رد المحتار، كتاب البيوع، مطلب إذا اكتسب حراماً ثم اشترى، ج: 5، ص: 235، دار الفكر، بيروت، لبنان]
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ ایک قمار باز (سٹے لگانے والے) شخص نے جس کا پیشہ سوائے جوئے کے اور کچھ نہ ہو، یا کوئی ناچنے گانے والی نے بارہویں شریف یا گیارہویں شریف میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور حضرت غوثِ اعظم قدس سرہ کی نیاز کرائی، تو اس نیاز کے تبرک کا کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ تو امامِ اہلِ سنت نے جواب میں ارشاد فرمایا:
الجواب: جس کا پیشہ محض حرام کا ہو اس سے مخالطت ویسے ہی نہ چاہیے۔ قال ﷲ تعالیٰ: وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ [سورۃ الانعام: 68] [اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اور اگر شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو پھر یاد آنے کے بعد ہرگز ظالموں کے پاس مت بیٹھو۔] اس [شخصِ مذکور] کے یہاں کھانا اور زیادہ معیوب ہے، مگر مذہبِ صحیح میں نفسِ طعام حرام نہیں سوا اس صورت کے کہ وہ خود اسے وجہِ حرام میں ملا ہو مثلاً اجرتِ غنا [یعنی گانے کی اجرت] یا زنا یا رشوتِ زانیہ میں ناج [اناج، غلہ] دیا گیا، وہ ناج اس کھانے میں ہے، یا اس نے اسے زرِ حرام سے خریدا اور خریداری میں عقد و نقد اسی مالِ حرام پر جمع ہوئے... ان دونوں صورتوں میں وہ کھانا حرام ہے ورنہ نہیں۔ بِهِ نَأْخُذُ مَا لَمْ نَعْرِفْ شَيْئًا حَرَامًا بِعَيْنِهِ. ھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد رضی ﷲ تعالیٰ عنہ۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 21، ص: 653، مرکزِ اہلِ سنت برکاتِ رضا، پوربندر، گجرات]
اعلیٰ حضرت ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
مگر احتراز اولیٰ، خصوصاً جب کہ غالب حرام ہو خروجاً عن الخلاف۔ [فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 21، ص: 628]
ایک مقام پر بالخصوص عالم اور دینی پیشوا کے بارے میں ارشاد فرمایا:
ہاں بنظرِ مصالحِ شریعہ اس کی زجر و توبیخ اور نگاہِ مسلمانان میں اس کے فعل کی تقبیح کے لیے اس کی دعوت سے احتراز خصوصاً مقتدا عالم کو انسب و اولیٰ ہے۔
[فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 21، ص: 634]
وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
محمد شہباز أنور البرکاتي المصباحي عفي عنہ
15 جمادی الآخرۃ 1447ھ / 7 دسمبر 2025ء
المصدق:
المفتي محمد وسيم أكرم الرضوي المصباحي
