ہوائی جہاز پر کب افطار کرے؟

Fatwa No. #298

سوال: ہوائی جہاز پر افطار کب کرے؟ کیا اپنے شہر کے برابر جہاز پہنچ جائے تو شہر کے وقت کے اعتبار سے افطار کرنا صحیح ہے؟ جب کہ سورج جہاز پر رہنے کی وجہ سے دکھائی دیتا ہے؟
المستفتی: شبیر احمد مصباحی، مدرسہ حنفیہ عالم خان، جونپور

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

سورج کے تمام وکمال ڈوبنے کا تعین ہونے پر افطار کا حکم ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج ڈوبنے تک روزے پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ اس کا ارشاد ہے:

﴿ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ﴾

اسی آیت کے تحت ممتاز الفقہاء ملا جیون علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں:

الْآيَةُ تَدُلُّ عَلَى تَمَامِ حَدِّ الصَّوْمِ أَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَنِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالْوَطْيِ نَهَارًا مَعَ النِّيَّةِ

یعنی پھر رات آنے تک روزے پورے کرو یہ آیت روزے کے حد پورے ہونے پر دلالت کرتی ہے یعنی کھانے پینے اور وطی سے پورے دن نیت کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رہنا۔ [تفسیرات احمدیہ، ص: 79]

اور دن کا اطلاق شرعی صبح صادق سے سورج ڈوبنے تک ہوتا ہے۔ اور سورج ڈوبنے کا اعتبار اسی جگہ کا ہوگا جہاں روزہ دار ہے جب ہوائی جہاز پر سفر کرنے والے کو سورج نظر آ رہا ہے تو شہر کے برابر جہاز پہنچنے پر اس شہر کے وقت کے اعتبار سے افطار کرنا ہرگز جائز نہیں کہ اس کے حق میں ابھی سورج ڈوبا ہی نہیں۔ لہذا اس پر لازم ہے کہ جب اوپر کے اعتبار سے سورج ڈوبنے کا اسے یقین ہو جائے تب افطار کرے۔ والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
عبد المجيد الرضوي المصباحي
المصدق:
فقيه الملة والدين مفتي جلال الدين أحمد أمجدي عليه الرحمة

[فتاوی فقیہ ملت، ج: 1، ص: 341]

ایک تبصرہ شائع کریں