اگر کسی کو روزہ رکھنے کی وجہ سے سخت تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟

 اگر کسی کو روزہ رکھنے کی وجہ سے سخت تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟

Fatwa No. #297

سوال: کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کے خون میں بہت زیادہ گرمی ہے اگر وہ روزہ رکھتا ہے تواس کو بہت نقصان بڑھ جاتا ہے، جس سے خون اور بدن اور زیادہ خراب ہو جائے گا، تو ایسی صورت میں کیا کرے، اور اگر اس شخص پر پہلے قضا کے بھی روزہ رکھنا واجب ہیں، اور علاوہ اس کے آئندہ روزہ رکھنا ہیں، تو ایسی صورت میں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ کیا ایک آدمی کو روزانہ کھانا کھلانے سے اپنے پچھلے روزوں کا کفارہ ہوسکتا ہے یا سیر کچھ چھٹا نک جیسا کہ دیا جاتا ہے، اس طریقہ پر کفارہ ہو سکتا ہے، یا کوئی اتنا غریب ہے کہ تعداد ادا نہیں کر سکتا، تو اس شکل میں ایک آدمی کو کھانا روزانہ کھلانے سے کفارہ ہو سکتا ہے۔

روزہ رکھنے کی شکل میں انتہائی تکلیف ہوتی ہے، جس سے خون اور بدن دونوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے، جس سے بدن بگڑ جائے گا ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
 المستفتی:     مصطفی علی خاں، بریلی

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

جب واقعی روزہ سے نقصان کا اندیشہ صحیح ہو جو تجربہ یا حکیم حاذق غیر فاسق کے یہاں سے معلوم ہو تو قضا کی رخصت ہوگی۔ اگر پچھلے اور ان روزوں کا جو اب قضا کرے، فدیہ دے اچھا ہے، مگر جب صحیح اور تندرست ہو جائے تو پھر قضا ادا کرے، فقط ایک آدمی کو کھانا کھلانے سے فدیہ ادا نہ ہوگا، کہ روزے فدیہ بریلی کی تول سے (گیہوں) پونے دو سیر اٹھنی بھر اوپر فی روزہ ہے۔ (1) اتنافی روزہ دے، خواہ ایک کو خواہ چند کو تقسیم کردے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

عالمگیریہ میں ہے:

المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع. وإن خاف زيادة العلة و امتداده فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن إمارة أو تجربة أو باخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا في التبيين. [الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج: 1، ص: 207، دار الفكر، بيروت]

جب واقعی مریض کو روزے سے جان جانے یا کسی عضو کے ہلاک ہونے کا اندیشۂ صحیح ہو تو اسے بالاجماع افطار کی اجازت ہے اور اگر مرض زیادہ یا دراز ہونے کا اندیشہ صحیح ہو تب بھی یہی حکم ہے ہمارے نزدیک، اور اس پر قضا لازم ہوگی جب روزہ چھوڑ دے، پھر اس بات کی معرفت مریض کے تحری کرنے سے ہوگی نہ کہ محض وہم سے، بلکہ یہاں ظن غالب ہونا چاہیے جو کسی علامت یا تجربہ یا حکیم حاذق مسلم غیر فاسق کے خبر دینے سے حاصل ہوگا، ایسا ہی فتح القدیر میں لکھا ہے، اور تندرست آدمی کو روزہ رکھنے سے مریض ہونے کا اندیشۂ صحیح ہوتو وہ مریض کے حکم میں ہوگا۔ ایساہی تبیین میں مذکور ہے۔

اگر مرض برابر رہے، یہاں تک کہ موت آجائے اس صورت میں قضا لازم ہی نہ ہوگی، ورنہ اتنے دن کی لازم ہوگی جتنے دن صحت کے وقت موت تک ملیں گے۔ اس صورت میں کہ مریض نے صحت پائی اور قضا نہ کی کہ موت کی گھڑی آئی۔ لازم ہے کہ وصیت فدیہ کرے۔ اس کے ولی پر لازم ہوگا کہ جتنے دن کے روزوں کی (قضا) اس کے ذمہ لازم ہے، ہر ایک مسکین کو نصف صاع گیہوں وہی پونے دوسیر اٹھنی بھر اوپر دے، یا ایک صاع جو وغیرہ۔ اگر مرنے والے نے وصیت نہ کی اور وارث اس کی طرف سے تبرعاً دے تو بھی جائز ہے، مگر بے وصیت ورثہ پر لازم نہ ہوگا۔

عالمگیریہ میں ہے:

لوفات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه لكنه إن أوصی بأن يطعم عنه صحت وصيته وإن لم تجب عليه، ويطعم عنه من ثلث ماله، فإن برئ المريض أو قدم المسافر وأدرك من الوقت بقدر مافاته فيلزم قضاء جميع ما أدرك. فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية كذا في البدائع. ويطعم عنه وليه لكل يوم مسكيناً نصف صاع من بر أوصاعاً من تمر أو صاعاً من شعير كذا في الهداية. فإن لم يوص وتبرع عنه الورثة جاز ولا يلزمهم من غير إيصاء، والله تعالى أعلم. [الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج: 1، ص: 207، دار الفكر، بيروت]

بیماری سفر وغیرہ کسی عذر یا مرض وسفر کے لگاتار رہنے کی وجہ سے روزے فوت ہو جائیں یہاں تک کہ موت آجائے اس صورت میں قضا لازم نہ ہوگی، لیکن اگر وصیتِ فدیہ کر دے تو وصیت درست ہوگی، اگرچہ اس صورت میں وصیت کرنا واجب نہیں، ولی اس کے ثلث مال سے فدیہ دے گا، اور اگر مریض نے صحت پائی یا مسافر وطن آگیا اور اتنا وقت پالیا کہ فوت شدہ روزے رکھ سکتا ہے تو اتنے روزوں کی قضا اس کے ذمہ لازم ہوگی، اور اگر اس صورت میں اس نے قضا نہ کی کہ موت کی گھڑی آئی تو لازم ہے کہ وصیت فدیہ کر دے، ایسا ہی بدائع میں لکھا ہے۔ اس کے ولی پر لازم ہوگا کہ جتنے دن کے روزوں کی قضا اس کے ذمہ لازم ہے ہر ایک مسکین کو نصف صاع گہیوں یا ایک صاع کھجور یا جو دے۔ ایسا ہی ہدایہ میں مذکور ہے، اور اگر مرنے والے نے وصیت نہ کی اور وارثین اس کی طرف سے تبرعاً دیں تو بھی جائز ہے مگر بے وصیت وارثین پر لازم نہ ہوگا۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔

غریب ہے کہ روز نصف صاع گندم نہیں دے سکتا، تو جتنے پر قادر ہو اتنا دے۔ جب نصف صاع گیہوں دے گا ایک روزے کا فدیہ ادا ہو جائے گا۔ فدیہ دینے پر قدرت رکھے اور ایک ساتھ سب کا دے دے تو بھی ہو سکتا ہے۔ اور مؤخر کرے کہ رمضان کے بعد قدرت پائے دے دے یہ بھی ہو سکتا ہے، یوں ہی بہ اقساط (قسطوں میں) والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
حضور مفتی اعظم ابو البرکات محی الدین حضرت علامہ شاہ محمد مصطفى رضا خان قادری بریلوی قدس سرہ

[فتاوی مفتی اعظم مترجم، ج:3 ، ص:316 تا 318]

1...مفتی نظام الدین برکاتی مصباحی صدر شعبۂ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور دام ظلہ علینا کی تحقیق کے مطابق یہ مقدار ہمارے زمانے میں 2 کلو 47 گرام گیہوں ہے جو کہ کتب فقہ میں مذکور نصف صاع گیہوں کے برابر ہے۔ اور ایک صاع کا وزن 4 کلو 94 گرام ہے۔ اگر گیہوں سے فدیہ ادا کیا جائے تو 2 کلو 47 گرام گیہوں یا اس کی قیمت دینی ہوگی، اور اگر کھجور وغیرہ سے ادا کیا جائے تو 4 کلو 94 گرام۔ از کمال احمد مصباحی

ایک تبصرہ شائع کریں