بازار بھاؤ کے اعتبار سے کسی چیز کی جو مالیت بنتی ہو اسے قیمت کہا جاتا ہے اور بیچنے خرید نے والے باہمی رضا مندی سے کسی چیز کا دام اور بھاؤ آپس میں طے کر لیں اسے ثمن کہا جاتا ہے۔ باہمی رضا مندی سے کسی چیز کا دام قیمت سے
Fatwa No. #292
سوال:
کیا فرماتے ہیں محققین اسلام اور مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ میں کہ ایک شخص کے پاس سونا ہے٫ اس کا بازار بھاؤ مثلاً 25000 روپیے میں ایک تولہ ہے اور وہ سونا جب سنار کے پاس بیچنے کے لیے جاتا ہے، تو سنار اس سونے کو بازار بھاؤ یعنی 25000 روپیے میں نہیں لیتا بلکہ اس سے کم مثلاً 20000 روپیے میں لیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ شخص اپنے سونے کی زکوۃ بازار بھاؤ کے اعتبار سے نکالے گا یا جس قیمت میں سنار خرید رہا ہے اس اعتبار سے؟
المستفتی:
محمد ایوب قادری کانپوری
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب بعون الملك الوهاب:
اولاً قیمت اور ثمن کا فرق سمجھیں، بازار بھاؤ کے اعتبار سے کسی چیز کی جو مالیت بنتی ہو اسے قیمت کہا جاتا ہے اور بیچنے خرید نے والے باہمی رضا مندی سے کسی چیز کا دام اور بھاؤ آپس میں طے کر لیں اسے ثمن کہا جاتا ہے۔ باہمی رضا مندی سے کسی چیز کا دام قیمت سے کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی۔
ثانياً تمام کتب فقہ میں یہ صراحت ہے کہ زکاۃ میں جس چیز مثلاً سونا کا دینا واجب ہو اور سونے کی جگہ چاندی یا کرنسی دی جائے تو لحاظ ثمن کا نہیں بلکہ قیمت کا ہوگا۔ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ تبیین الحقائق میں اس پر اجماع تحریر فرمایا، چناں چہ رقمطراز ہیں: ولو أدى من خلاف جنسه تعتبر القيمة بالإجماع. یعنی اگر زکاۃ خلاف جنس سے ادا کرے تو بالاجماع قیمت کا اعتبار ہوگا۔ [الزیلعي، تبيين الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الزکاة، باب زكاة المال، ج:1، ص:278، المطبعة الكبری الأمیرية، بولاق، القاهرة]
اس سے معلوم ہوا کہ خلاف جنس سے زکاۃ کی ادائیگی میں ثمن کا اعتبار نہیں بلکہ قیمت کا اعتبار ہے۔ لہٰذا جس شخص کا سونا سونار مثلاً 20000 تولہ کے حساب سے خرید رہا ہے جب کہ اتنے سونے کی قیمت 25000 ہے، تو زکاۃ، قیمت یعنی 25000 کے اعتبار سے دے۔
والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
تاج الفقہا مفتی محمد اختر حسین قادری
[فتاوی علیمیہ، ج:3 ، ص::402]
