شریعت مطہرہ کے مطابق صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے روزہ بھی رکھتا ہے اور امام صاحب روزہ نہیں رکھتے، امام صاحب اپنی تکلیف کا اظہار کر کے روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا علیحدہ پڑھنا افضل ہے
Fatwa No #291
سوال:
کوئی شخص شریعت مطہرہ کے مطابق صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے روزہ بھی رکھتا ہے اور امام صاحب روزہ نہیں رکھتے، امام صاحب اپنی تکلیف کا اظہار کر کے روزہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا علیحدہ پڑھنا افضل ہے؟
المستفتی:
محمد مسعود علی خان مصطفوی قادری، موضع و ڈاکخانہ محمد آباد، ضلع آگرہ (یوپی)
بِسْمِ اللهِ الرَّحٰمَنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
بے عذر شرعی روزہ نہ رکھنا اشد کبیرہ ہے، اور عذر شرعی ہوتو حرج نہیں اور عذر شرعی یہ ہے کہ ایسا کمزور یا بیمار ہو کہ ہلاک یا زیادتی مرض کا صحیح اندیشہ ہو اور معمولی کمزوری عذر نہیں۔ امام کا عذر اگر واقعی شرعی ہے تو امامت ان کی بلا کراہت جائز ہے جب کہ کوئی مانع شرعی نہ ہو اور اگر عذر شرعی نہیں تو انہیں امام بنانا گناہ۔
والله تعالى أعلم
[فتاوی تاج الشریعہ٬ ج: 5 ص: نمبر 119]
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
فقیر محمد اختر رضا خان خان قادری از هری
