اور حرم میں شکار کرنے کی وجہ سے جو روزہ واجب ہوا وہ اور حج میں وقت سے پہلے سر منڈانے کا روزہ اور تمتع کا روزہ ان سب میں عین صبح چمکتے وقت
Fatwa No #276
سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین وملت اس مسئلہ میں کہ کن روزوں میں رات ہی سے نیت کرنا ضروری ہے؟
المستفتی:
از محمد شاہ عالم قادری، پرسواں، میر گنج، جونپور
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
اداے رمضان اور نذر معین اور نفل کے علاوہ باقی روزے مثلاً قضے رمضان اور نذر غیر معین اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اس کی قضا) اور نذر معین کی قضا، اور کفارہ کا روزہ اور حرم میں شکار کرنے کی وجہ سے جو روزہ واجب ہوا وہ اور حج میں وقت سے پہلے سر منڈانے کا روزہ اور تمتع کا روزہ ان سب میں عین صبح چمکتے وقت یا رات میں نیت کرنا ضروری ہے۔
يَصِحُّ أَدَاءُ صَوْمِ رَمَضَانَ وَالنَّذْرِ الْمُعَيَّنِ وَالنَّفْلِ بِنِيَّةٍ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى الضَّحْوَةِ الْكُبْرَى لَا بَعْدَهَا وَلَا عِنْدَهَا الشَّرْطُ لِلْبَاقِي مِنَ الصِّيَامِ قِرَانُ النِّيَّةِ لِلْفَجْرِ وَلَوْ حُكْمًا وَهُوَ تَبْيِيتُ النِّيَّةِ لِلضَّرُورَةِ.
[الدر المختار مع رد المحتار، ج: 2، ص: 85-87]
والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
محمد عبد الحی قادری
المصدق:
فقيه الملة المفتي جلال الدین احمد الأمجدي
[فتاوی فقیہ ملت، ج:1، ص:329]
