اعتکاف واجب یا سنت مؤکدہ میں معتکف اپنی مسجد سے نکل کر دوسری مسجد کی محفل نعت میں شریک ہوسکتا ہے یا نہیں؟

Fatwa No #293

سوال: اعتکاف واجب یا سنت مؤکدہ میں معتکف اپنی مسجد سے نکل کر دوسری مسجد کی محفل نعت میں شریک ہوسکتا ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

صورت مسئولہ میں معتکف کا اعتکاف واجب یا سنت مؤکدہ میں اپنی مسجد سے نکل کر دوسری مسجد کی محفل نعت میں شریک ہونا جائز نہیں ہے اگر معتکف دوسری مسجد کی محفل نعت میں شریک ہوا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا کیونکہ معتکف کے لیے مسجد سے نکلنے کے لیے صرف دو عذر ہیں ایک عذر طبعی جو کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے مثلاً استنجا، غسل وغیرہ اگر مسجد میں ممکن نہ ہو تو، دوسرا عذر شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے مسجد مسجد سے باہر جانا جیسا کہ فقیہ اعظم ہند صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں کہ:

معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ وغیرہ۔ دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ جانا وغیرہ۔ ملخصاً [بہار شریعت، اعتکاف کا بیان، ج: 1، حصہ: 5، ص: 1029]

اور فتاوی عالمگیری میں ہے:

لو خرج لجنازة يفسد اعتكافه وكذا لصلاتها ولو تعينت عليه أو لإنجاء الغريق أو الحريق أو الجهاد إذا كان النفير عاما أو لأداء الشهادة هكذا في التبيين. [مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، الباب السابع في الاعتكاف، ج: 1، ص: 212، دار الفكر، بيروت]

اور اگر اعتکاف واجب میں منت مانتے وقت یہ شرط زبان سے ذکر کر دیا تھا کہ محفل نعت میں شریک ہوگا اس صورت میں دوسری مسجد کی محفل نعت میں شریک ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ فقیہ اعظم ہند صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں کہ:

اگر منت مانتے وقت یہ شرط کر لی تھی کہ مریض کی عیادت اور نماز جنازہ اور مجلس علم میں حاضر ہوگا تو یہ شرط جائز ہے اب اگر ان کاموں کے لیے جائے تو اعتکاف فاسد نہ ہوگا مگر خالی دل میں نیت کر لینا کافی نہیں بلکہ زبان سے کہہ لینا ضروری پے۔ اھ [بہار شریعت، اعتکاف کا بیان، ج: 1، حصہ: 5، ص: 1031]

اور فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ص۱۰ پر ہے:

"ولو شرط وقت النذر والالتزام أن يخرج إلى عيادة المريض وصلاة الجنازة وحضور مجلس العلم يجوز له ذلك كذا في تاتار خانيه ناقلا عن الحجة اه‍" [مجموعة من المؤلفين، الفتاوى الهندية، الباب السابع في الاعتكاف، ج: 1، ص: 212، دار الفكر، بيروت] والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
بركت علی قادری مصباحی
المصدق:
فقيه الملة مفتي جلال الدين أحمد أمجدي عليه الرحمة

[فتاوی فقیہ ملت، ج:1 ، ص:348]

ایک تبصرہ شائع کریں