ممانی سے نکاح کرنا کیسا؟

ممانی سے نکاح کرنا کیسا؟

Fatwa No. #290-09

سوال: مفتی صاحب سے عرض ہے کہ زید کے ماموں کا انتقال ہوئے ایک سال ہوگیا، کیا زید کا اپنی ممانی سے نکاح ہوسکتا ہے؟
المستفتی: نامعلوم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

ممانی کی جب عدت گزر جائے تو ان سے نکاح کرنا شرعا جائز ودرست ہے جب کہ کوئی اور وجہ حرمت نہ ہو مثلا: ممانی پھوپھی نہ ہو، اسی طرح ان سے رضاعت یا مصاہرت کا رشتہ نہ ہو۔ کیوں کہ ممانی محرمات میں سے نہیں ہے۔

محرمات کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:

﴿حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘-فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ-وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (23) وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ-كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَؕ﴾

ترجمہ کنز الایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آجائیں یہ اللہ کا نوشتہ ہے تم پر ان کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو قید لاتے نہ پانی گراتے۔ [سورۃ النساء، 24]

ممانی سے نکاح جائز ہے، سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ (سال وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں:

چچی اور ممانی سے بھی نکاح جائز ہے۔ [فتاوی رضویہ، کتاب النکاح، ج 11، ص 464، مرکز اہلسنت برکات رضا، گجرات]

مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ (سال وفات: 1367ھ) لکھتے ہیں:

ماموں کے مرنے یا طلاق دینے اور عدت گزرنے کے بعد ممانی سے نکاح جائز ہے کہ یہ محارم کی کسی قسم میں داخل نہیں۔ [فتاوی امجدیہ، کتاب النکاح، ج 2، ص 72، دائرۃ المعارف الامجدیۃ، گھوسی]

مفتی حبیب اللہ نعیمی اشرفی علیہ رحمۃ اللہ القوی ( سال وفات: 1395ھ) لکھتے ہیں:

ممانی سے اگر کوئی دوسرا رشتہ حرمت نہ ہو تو ممانی سے نکاح صحیح و جائز وحلال ودرست ہے اور اگر ممانی سے کوئی دوسرا رشتہ حرمت بھی ہو جیسے ممانی پھوپھی ہو تو ممانی سے نکاح جائز نہیں، حرام ہے۔ [حبیب الفتاوی، کتاب النکاح ، ج 2، ص 158، السید محمود اشرف دار التحقیق والتصنیف] والله تعالى أعلم


کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
حسین رضا اشرفی مدنی
25 رجب المرجب 1447ھ بمطابق 15 جنوری 2026
المصدق:
المفتی وسیم اکرم الرضوی المصباحی

ایک تبصرہ شائع کریں