بلا وجہ منگنی توڑ دینا کیسا؟

Fatwa No. #296-10

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام اس مسئلہ میں کہ بلا وجہ منگنی توڑ دینا کیسا ؟

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجواب:

منگنی نکاح کا وعدہ ہے اور حتی الامکان وعدہ کو پورا کرنا چاہیے لہذا جب ایک جگہ منگنی ہو جائے تو بلا وجہ اس کو توڑنا شرعا معیوب وناپسندیدہ ہے کہ قران وحدیث میں جا بجا وعدہ پورا کرنے کا حکم موجود ہے۔ البتہ ایسا کرنا ناجائز وگناہ نہیں ہے۔

اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ وعدہ کی تین صورتیں ہیں:
1. وعدہ کرتے وقت اسے پورا کرنے کی نیت ہے، لیکن بعد میں بلاعذر پورا نہ کیا تو یہ مکروہ تنزیہی اور شرعاً ناپسندیدہ عمل ہے۔
2. وعدہ کے وقت پورا کرنے کی نیت ہے، لیکن کسی سبب سے پورا نہ کیا تو اس میں ادنی کراہت بھی نہیں۔
3. اگروعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ ہو تو یہ ناجائز وگناہ ہے کہ یہ مسلمان کو دھوکہ دیناہے، اور ایسی ہی وعدہ خلافی کی احادیث میں مذمت وارد ہے۔

وعدہ پورا کرنے کے بارے میں ارشاد رب العباد ہے:

﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ﴾

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والوں اپنے قول پورے کرو۔ [سورۃ المائدۃ: 1]

ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے:

﴿وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴـوْلًا﴾

ترجمۂ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔ [سورۃ الاسراء: 34]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

”خِيَارُكُمُ الْمُوفُونَ“

ترجمہ: تم میں بہتر وہ ہیں جو وعدہ پورا کرنے والے ہیں۔ [المصنف لابن ابی شیبۃ، ج 4، ص 458، دار التاج، لبنان]

منگنی نکاح کا وعدہ ہے، جیسا کہ سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: نکاح عقد ہے اور منگنی وعد، عقد ووعد کا تباین بدیہی، تو منگنی کو نکاح ٹھہرانا بداہۃ باطل اور اجماعا غلط۔ [فتاوی رضویہ، ج 11، ص 184، مرکز اہلسنت برکات رضا، گجرات]

وعدہ مکمل کرنے پر جبر نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

”إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ، وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ“

ترجمہ: جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اسے پورا کرنے کی اس کی نیت ہو، پھر وہ اسے پورا نہ کرے اور وعدہ کو بجا نہ لائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ [کنز العمال، ج 3، ص 347، حدیث: 6869، مؤسسۃ الرسالۃ]

فتاوی ہندیہ میں ہے:

”فَإِنْ أَنْجَزَ وَعْدَهُ كَانَ حَسَنًا وَإِلَّا فَلَا يَلْزَمُهُ الْوَفَاءُ بِالْمَوَاعِيدِ“

ترجمہ: اگر اپنے وعدہ کو پورا کرے تو بہتر ہے ورنہ وعدہ کو پورا کرنا واجب نہیں۔ [الفتاوى الهندية، کتاب الاجارۃ، الباب السابع، ج 4، ص 427، دار الفکر، بیروت]

وعدہ خلافی کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

”لَيْسَ الْخُلْفُ أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ وَلَكِنَّ الْخُلْفَ أَنْ يَعِدَ الرَّجُلُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ لَا يَفِيَ“

ترجمہ: وعدہ خلافی یہ نہیں کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت اس وعدہ کو پورا کرنے کی ہو، بلکہ وعدہ خلافی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اس کی نیت وعدہ پورا کرنے کی نہ ہو۔ [کنز العمال، ج 3، ص 347، حدیث: 6871، مؤسسۃ الرسالۃ]

اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ (سال وفات: 1391ھ) فرماتے ہیں: جائز وعدہ پورا کرنا عام علما کے نزدیک مستحب ہے، وعدہ خلافی مکروہ، بعض علما کے نزدیک ایفائے عہد واجب ہے اور وعدہ خلافی حرام ہے، اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کر سکے تو وہ گنہگار نہیں، یوں ہی اگر کسی کی نیت وعدہ خلافی کی ہو مگر اتفاقا پورا کر دے تو گنہگار ہے اس بدنیتی کی وجہ سے ہر وعدہ میں نیت کو بڑا دخل ہے۔ [مراٰۃ المناجیح، ج 6، ص 370، مٹیا محل، دہلی]

وعدہ خلافی کی صورتیں بیان کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے توبے ضرورت شرعی وحالت مجبوری سخت گناہ وحرام ہے ایسے ہی خلاف وعدہ کو حدیث میں علامات نفاق سے شمار کیا۔۔۔اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول وسبب معقول پیدا ہواتو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا، ادنیٰ کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر ومصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی وفضیلت پر ترجیح ہو خصوصا امر نکاح میں کہ عمر بھر کے ساتھ کاسامان اور سخت نازک معاملہ ہے۔۔۔اور اگر کوئی عذر ومصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی جاتی ہے تویہ صورت مکروہ تنزیہی ہے۔۔۔یہ بات اس تقدیر پر بےجا وخلاف مروت ہے ،مگرحرام وگناہ نہیں۔ ملخصاً [فتاوی رضویہ، ج12، ص 281 تا 283، رضا اکیڈمی، ممبئی]

والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
حسین رضا اشرفی مدنی
25 رجب المرجب 1447ھ بمطابق 15 جنوری 2026
المصدق:
المفتي محمد وسيم أكرم الرضوي المصباحي

ایک تبصرہ شائع کریں