بآواز پڑھنے سے اس کی نماز نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید ووظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہا تھا جس
Fatwa No. #289
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک یا زیادہ شخص نماز پڑھ رہے ہیں یا بعد جماعت نماز پڑھنے آئے ہیں، اور ایک یا کئی لوگ بآواز بلند قرآن، یا وظیفہ یعنی کوئی قرآن، کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ مسجد بھی گونج رہی ہے، تو اس حالت میں کیا حکم ہونا چاہے؟ کیونکہ بعض دفعہ آدمی کا خیال بدل جاتا ہے اور نماز بھول جاتا ہے۔
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اس کی نماز نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید ووظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہا تھا جس وقت کوئی شخص نماز کے لئے آئے فوراً آہستہ ہو جائے۔
والله تعالى أعلمکتبـــــــــــــــــــــــــــه:
إمام أهل السنة مجدد الدين والملة الإمام أحمد رضا خان عليه الرحمة والرضوان
[حوالہ فتاوی رضویہ مترجم، ج:ہشتم ، ص:١٠٠ ]
