ایسی صورت میں باپ بیٹے میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے بلکہ ہر ایک کا مال اس کے باحیات وارثین کے لیے ہو گا اور اگر معلوم ہو کہ پہلے کون مرا ہے تو بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کا وارث بنے گا۔
Fatwa No #281-04
سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کے پانچ بیٹے تھے، ان میں سے ایک بیٹا اپنے باپ کے ساتھ دوران زلزلہ مکان تلے دب کر مر گیا تو اب باپ کی میراث میں اس بیٹے کا حصہ ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا
المستفتی:
شیراز احمد صدیقی
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگر یہ معلوم نہیں کہ پہلے کون مرا ہے اور بعد میں کون، تو ایسی صورت میں باپ بیٹے میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے بلکہ ہر ایک کا مال اس کے باحیات وارثین کے لیے ہو گا اور اگر معلوم ہو کہ پہلے کون مرا ہے تو بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کا وارث بنے گا۔
جوہرہ نیرہ میں ہے:
قَوْلُهُ: (وَإِذَا غَرِقَ جَمَاعَةٌ أَوْ سَقَطَ عَلَيْهِمْ حَائِطٌ وَلَمْ يُعْلَمْ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ أَوَّلًا فَمَالُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ لِلْأَحْيَاءِ مِنْ وَرَثَتِهِ وَلَا يَرِثُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ؛ لِأَنَّهُ يُحْكَمُ بِمَوْتِهِمْ مَعًا)
ترجمہ: اور ان کا یہ قول کہ: اگر ایک جماعت ڈوب گئی ہو یا ان پر دیوار گر پڑی ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ ان میں سے پہلے کون مرا ہے، تو ہر ایک کا مال اس کے زندہ وارثوں کو ملے گا اور وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے؛ کیوں کہ شرعاً یہ حکم لگایا جائے گا کہ وہ سب ایک ساتھ مرے ہیں۔ [الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، كتاب الفرائض، باب الرد، ج: 2، ص: 307، المطبعة الخيرية]
در مختار میں ہے:
(لَا تَوَارُثَ بَيْنَ الْغَرْقَى وَالْحَرْقَى إلَّا إذَا عُلِمَ تَرْتِيبُ الْمَوْتَى) فَيَرِثُ الْمُتَأَخِّرُ.
ترجمہ: ڈوب کر مرنے والوں اور جل کر مرنے والوں کے درمیان وراثت ثابت نہیں ہوتی، مگر یہ کہ مرنے والوں کی ترتیب معلوم ہو جائے، تو پھر جو بعد میں مرے گا وہ پہلے مرنے والے سے وراثت پائے گا۔ ایسا ہی بہار شریعت میں ہے۔
والله تعالى أعلمکتبـــــــــــــــــــــــــــه:
محمد شہباز انور البرکاتی المصباحی عفی عنہ
15 جمادی الآخرہ 1447ھ
7 دسمبر 2025ء
المصدق:
المفتي وسيم أكرم الرضوي المصباحي
