جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے عام طور سے یا نادان لوگ ہیں یا جان بوجھ کر نادان بنتے ہیں
Fatwa No #287
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
زید کہتا ہے کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنی چاہئے بلا پڑھے نماز نہیں ہوتی، اس کا ثبوت حدیث سے ہونا چاہئے؟
سائل:
حاجی عطاء اللہ، مہراج گنج اعظم گڑھ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب:
امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنی مکروہ ہے۔ ہدایہ میں ہے:
"لايقرء المؤتم خلف الإمام"
اور یہی صحیح حدیث سے ثابت ہے بلکہ قرآن عظیم سے ثابت ہے۔
قرآن عظیم میں ہے:
وَاِذَا قُرِئَ القُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ
[الأعراف:٢٠٤]
اور سنن نسائی میں ہے:
"إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمکم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فانصتوا"
(١٩٧/٢)
دوسری حدیث سنن دار قطنی میں ہے:
"إنما الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فانصتوا"
(٣٢٨/١)
ترمذی اپنی جامع میں حدیث نقل کرتے ہیں:
"من صلى ركعة لم يقرأ فيها بأم القرآن فلم يصل إلا أن يكون وراء الإمام "
(جامع ترمذي:١٣٣)
آج کل جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے عام طور سے یا نادان لوگ ہیں یا جان بوجھ کر نادان بنتے ہیں۔
والله تعالى أعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــه:
(بحر العلوم)مفتی عبد المنان صاحب علیه الرحمة
المصدق:
جلالة العلم حافظ الملة والدين العلامة عبد العزيز المحدث المرادآبادي ثم المباركفوري عليه الرحمة والرضوان
[فتاوی بحر العلوم، ج:اول ، ص:٢٤٧ ]
